ابنا: جاۓ وقوعہ پر جلی حروف میں ایک تحریر بھی ملی ہے جس میں لکھا ہوا تھا کہ اسرائیل کو گیس کی برآمدات منع ہیں۔مصر سے اسرائيل کو جانے والی گیس پائپ لائن میں ایسی حالت میں دھماکہ ہوا ہے کہ جب مصر کی بہت سی سیاسی شخصیات اور عوام اسرائیل کو گیس برآمد کرنے کے شدید مخالف ہیں۔صہیونی ریاست کو گیس کی برآمد کے خلاف عوام کے وسیع اعتراضات کے بعد کچھ عرصہ قبل مصر کی حکومت نے اعلان کیا تھا کہ اسرائيل کے ساتھ سابقہ حکومت کے دور میں کۓ گۓ گیس کی برآمد کے سمجھوتوں پر نظر ثانی کرے گی۔ جبکہ مصر کے عوام اسرائيل کو گیس کی برآمدات کے مکمل طور پر بند کۓ جانے اور قابض حکومت کے ساتھ ہر طرح کے سیاسی اور اقتصادی تعلق کے منقطع کۓ جانے کے خواہاں ہیں۔ صہیونی ریاست اس سے قبل اپنی گیس ضروریات سستے داموں مصر سے پوری کرتی تھی۔لیکن حسنی مبارک کی حکومت کی سرنگونی کے بعد انقلابیوں نے اسرائيل کو گيس برآمد کرنے کی مخالفت کی۔ اور اس ملک کے نۓ حکمرانوں نے بھی کچھ عرصے تک کے لۓ اسرائیل کو گیس برآمد نہیں کی۔ لیکن چوری اسرائیل کو گيس فراہم کرنے سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہےکہ مصر کی حکمران فوجی کونسل میں ایسے افراد موجود ہیں جو صہیونی ریاست کے ساتھ مصر کے تعلقات برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔ اور یہی چیز مصری عوام کی ناراضگي کا سبب بن گئي ہے۔ اس سلسلے میں مصر کے سیاسی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اب ایک بار پھر جو اسرائیل کو جانے والی گیس پائپ لائن میں دھماکہ ہوا ہے تو یہ دھماکہ اس پیغام کا حامل ہے کہ مصر کے عوام قدس کی غاصب حکومت کو گیس برآمد کرنے اور اس حکومت کے ساتھ مصر کی فوجی کونسل کے تعلقات کے تسلسل کی وجہ سے غم و غصے میں مبتلاء ہیں۔............ /169
10 نومبر 2011 - 20:30
News ID: 277746
مصر سے مقبوضہ فلسطین جانے والوووی گیس پائپ لائن میں دھماکہ ہو گیا ہے ۔ فروری کے مہینے میں حسنی مبارک کی ڈکٹیٹر حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیل کی جانے والی گیس پائپ لائن میں ہونے والا یہ ساتواں دھماکہ ہے۔